مناما،22؍فروری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)خلیجی ریاست بحرین کی وزارت داخلہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث چار خواتین سمیت 20اشتہاری ملزموں کو حراست میں لے لیا ہے۔ بحرینی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 9فروری کو دہشت گردوں کے ایک گروپ نے ایران فرار کی کوشش کی تھی مگر پولیس نے مسلسل ریکی کے بعد اشتہاریوں کی ایران فرار کی سازش ناکام بناتے ہوئے متعدد شرپسندوں کو گرفتار کرلیا تھا۔بیان کے مطابق نو سے 19فروری کے دوران پولیس اور دیگر اداروں نے دہشت گردوں کا تعاقب کرتے ہوئے چار خواتین سمیت 20اشتہاریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار کی گئی چاروں خواتین پر مفرور دہشت گردوں کو پناہ دینے اور انہیں فرار میں مدد فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
گرفتار کیے گئے ایک دہشت گرد نے 29جنوری 2017ء کو بحرینی پولیس کیایک سارجنت ھشام الحمادی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ دیگر ملزمان میں ملک میں بم دھماکوں کے لیے بم تیار کرنے، ایران اور عراق سے عسکری تربیت حاصل کرنے اور ان ملکوں سے اسلحہ حاصل کرنے کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔گرفتار کیے گئے دہشت گردوں میں 27سالہ صادق احمد منصور احمد، 35سالہ امیرہ محمد صالح عبدالجلیل، 41سالہ فاتن عبدالمحسن ناصر، 40سالہ حمیدہ عبدالجلیل احمد، منیٰ حبیب ادریس صالح، 65سالہ محمد صالح عبدالجلیل، 37سالہ عبدالشہید احمد علی الشیخ، 23سالہ احمد حسن رضی، 24سالہ محمد صالح عبدالجلیل اورالدیر گروپ میں شامل جعفر رمضان علی حمیدام، یوسف حسن محمد حسن، علی حسن عبد علی حماد، محسن احمد علی محمد النھام اور محمد حسن عبد علی النھام کے نام شامل ہیں۔ ان کی عمریں 22سے 46سال کے درمیان بتائی جاتی ہیں۔دہشت گردی کے الزام میں گرفتار 23سال احمد عیسیٰ احمد عیسیٰ الملالی نے پولیس افسر ھشام الحمادی کو قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے۔ اس نے یہ کارروائی عراق فرار ہونے والے شدت پسند حسین داؤد کی مدد سے انجام دی۔
بیس سالہ احمد علی یوسف نے اپنے گھر میں اسلحہ سازی کی فیکٹری بنا رکھی تھی۔ سلمان محمد سلمان منصور اور حسین محمد سلمان منصور نے دہشت گردوں کو فرار میں مدد دینے کے لیے قیمتی موبائل فون فراہم کیے تھے۔ حسین احمد عیسیٰ الشاعر نے ایران سے عسکری تربیت حاصل کر رکھی ہے جب کہ اکیس سالہ ھانی یونس یوسف علی پر دوسرے دہشت گردوں کو دھماکہ خیز مواد کی تیاری میں معاونت فراہم کرنے کا الزام ہے۔